نماز کے نمبروں میں کمیامام أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب بن علي الخراساني، النسائي (المتوفى: 303هـ) اپنی کتاب السنن الكبرى ج 1 ص 316 حـ 614 میں بسند حسن روایت فرماتے ہیں :
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَهُوَ الْقَطَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي وَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ لَهُ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا عُشْرُهَا، أَوْ تُسْعُهَا، أَوْ ثُمْنُهَا، أَوْ سُبْعُهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى آخِرِ الْعَدَدِ»
.......... عمار بن یاسر رضی اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی نماز پڑھ کر چلا جاتا ہے لیکن شاید اسے اسکی ساری نماز میں سے صرف دسواں حصہ (دس فیصد) ثواب ملتا ہے یا نواں حصہ (گیارہ اعشاریہ گیارہ فیصد) یا آٹھواں حصہ (ساڑھے بارہ فیصد) یا ساتواں حصہ (چودہ اعشاریہ اٹھائیس فیصد ) حتى کہ آپ نے آخر عدد تک اسے شمار کیا ( یعنی پچاس فیصد تک )
اور نماز میں رہ جانے والی اس کمی کو نوافل (سنت مؤکدہ وغیر مؤکدہ) پورا کر دیتے ہیں ۔
امام أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب بن علي الخراساني، النسائي (المتوفى: 303هـ) اپنی کتاب السنن الصغرى كتاب الصلاة باب المحاسبة على الصلاة حـ 614 میںبسند صحيح روایت فرماتے ہیں :
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ بَيَانِ بْنِ زِيَادِ بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ عَنْهُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَوَّامِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ فَإِنْ وُجِدَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ تَامَّةً وَإِنْ كَانَ انْتُقِصَ مِنْهَا شَيْءٌ قَالَ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لَهُ مِنْ تَطَوُّعٍ يُكَمِّلُ لَهُ مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَةٍ مِنْ تَطَوُّعِهِ ثُمَّ سَائِرُ الْأَعْمَالِ تَجْرِي عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ
..... ابو هريره رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے انسان سے نماز کے بارہ میں سوال ہوگا اگر نماز پوری پائی گئی تو پوری لکھ دی جائے گی اور اگر اس میں سے کچھ کمی ہوئی تو اللہ تعالى فرمائیں گے میرے بندے کے نوافل دیکھو ۔ تو اسکے فریضہ میں سے جو نقصان ہوگا اسے نوافل سے پورا کیا جائے گا پھر باقی اعمال بھی اسی حساب سے پرکھے جائیں گے ۔